نئی دہلی14مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش ضمنی انتخابات میں گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی بری طرح پچھڑ گئی ہے۔ اب تک ہوئی ووٹوں کی گنتی میں پھول پور میں سماجوادی پارٹی کے ناگیندر پٹیل اور گورکھپور میں پروین نشاد نے یوگی کے گڑھ کا قلع قمع کردیاہے۔ رجحانات میں بی جے پی کے امیدواروں کے فیصلہ کن طور سے پچھڑنے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریا نے کہا کہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پارٹی اس کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایک ساتھ آنے سے صورتحال بدلی ہے ۔ کیشو پرساد موریا نے کہاکہ ہمیں امید نہ تھی کہ بی ایس پی کے ووٹ ایس پی امیدوار کو اس قدر ملیں گے ۔ ہم جائزہ لیں گے کہ 2019 میں جب ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس ایک ساتھ ہوں گے تو ان سے کس طرح مقابلہ کیا جائے۔اس سے پہلے ایس پی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے کہا کہ بی ایس پی کے اتحاد کی بدولت ہم جیت رہے ہیں۔ دراصل بی ایس پی نے ضمنی انتخابات میں اپنے کسی امیدوار کو نہیں اتارا تھا اور پارٹی سربراہ مایاوتی نے سماج وادی پارٹی کے ساتھ رفتار کی بات کرتے ہوئے حمایت دینے کی بات کہی تھی۔ علاوہ ازیں اس اتحاد کو2019 لوک سبھا انتخابات کے لحاظ سے دونوں جماعتوں کے لئے ایک کوشش بھی سمجھی جاتی ہے ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یعنی اگر یہ تال میل گورکھپور اور پھول پور میں کامیاب تو اگلے لوک سبھا انتخابات میں یہ دونوں پارٹیاں بی جے پی کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہیں ۔ واضح ہو کہ ایسے میں ایس پی کی جیت کے ساتھ بی ایس پی کو کریڈٹ دے کر رام گوپال یادو نے ممکنہ سیاسی بساط کی سمت اشارہ بھی کردیا ہے ۔ 1993 کے بعد پہلی بار ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان انتخابات میں اتحاد ہواہے۔ 1995 میں اس اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان طویل خلیج قائم ہوگئی تھی ۔ واضح ہو کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلی بننے کے بعد سے گورکھپور سیٹ خالی ہوئی تھی، وہیں کیشو پرساد موریہ کے نائب وزیر اعلی بننے کے بعد پھول پور لوک سبھا سیٹ خالی ہوئی تھی ۔ بی جے پی کی لاکھ کوشش کے باوجود آج گورکھپور سے بی جے پی کا لاشہ نکل رہا ہے جو کہ بی جے پی کے لیے ایک عبرتناک شکست سے کم نہیں ہے ۔